85

کورونا وائرس اور معاشی حالات !!!

(تحریر ، محمد طارق )

حصص بازار مندی کا شکار ،تیل کی قیمتوں میں کمی ،گلیاں سڑکیں بازار سنسان ،ایک وائرس نے مضبوط عالمی معشیت کے گھٹنے ٹیک دیے –

کورونا وائرس کوروکنے اور اس آفت کو ختم کرنے کے لیے نئی موثر ادویات بنانے کی ضرورت ، سب سے زیادہ اہم قدم اور سوال یہ ہے کہ کورونا بحران ختم ہونے کے بعد عالمی معاشی بحران سے کیسے نمٹا جائے گا -اگر حکومتوں نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے بروقت ، موثر معاشی اقدامات نہ کیے تو پھر ملکی معشیت ڈوب جائیں گی ، کاروبار ، صنعتیں دیوالیہ ہو جائیں گی –

لیکن یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کسی ملک میں کورونا کی وجہ سے کاروبار دیوالیہ ہونے کے ساتھ کیا سب کچھ خاکستر ہوجائے گا – تو جواب اس کا ہے کہ ایسا نہیں ہے ، کیونکہ عمارات ، ہوائی جہاز ، ٹرینیں ، انسانی علم و تجربہ ضائع یا ختم نہیں ہوگا – اس کے باوجود کورونا وائرس سے، ملکی اقتصادیات کے بارے میں 2 سوال آتے ہیں –

1- جب عام لوگوں کی آمدن ختم ہوگی تو ان کی گذراوقات کے لیے کہاں سے رقم آئے گی –
2- کورونا بحران ختم ہونے کے بعد دیوالیہ کاروبار کا کون مالک بنے گا ، یا رہے گا –

اقتصادیات کی بنیادی تھیوری کے مطابق دنیا کے بازار ، کاروبار رسد و طلب کے اصول پر چلتے ہیں -بازار میں طلب فیصلہ کرتی ہے کہ کونسی اشیاء کتنی پیدا کی جائے اور کس قمیت پر فروخت کی ہو- لیکن یاد رکھے طلب ، رسد کا اصول ہر اشیاء کی پیداوار اور اس کی مقدار پر منحصر نہیں ہوتا – جیسے جب کوئی فرم ایک ایسی پروڈکٹ بناتی ہے جو بنتے وقت بہت زیادہ آلودگی پیدا کرتی ہے ، تو اس وقت معاشرے کے مجموعی ماحول پر برا اثر پڑتا ہے – جس سے معاشرے کے مجموعی اخراجات بڑھ جاتے ہیں – یہاں پر پھر حکومت سرگرم ہو کر ان نقصانات ، اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی –

جب کسی ملک میں یا معاشرے میں اجتماعی نقصان ہونا شروع ہوتا ہے ، تو اس وقت انسانوں کا ترتیب دیا ہوا اجتماعی نظام ہی ایسے نقصانات سے نمٹنے کے لیے سامنا آتا ہے –

نیچے مثال پڑھیں

کورونا وائرس کے دوران انیلاخان کا ریسٹورنٹ دیوالیہ ہونے کے قریب – یہ اس لیے ہوا کہ انیلاخان گاہکوں میں کمی کی وجہ سے اپنے اخراجات پورے کرنے میں ناکام ہوگئ – ساتھ ہی کچھ عرصے بعد اس کی جمع پونجی بھی ختم ہونے لگی ، کیونکہ گاہک نہ ہونے کے باوجود اس نے ریسٹورنٹ کا کرایہ ، بینک کی اقساط ہر حال میں
دینی ہیں –

اب اگر یہاں پر حکومت وقت اس کے کاروبار کو معاشی طور پر سپورٹ نہیں کریں گی ، تو پھر کورونا ختم ہوتے ہی ملکی معشیت میں مندی آجائیگی – جبکہ حکومت کی طرف سے 5 ، 6 ماہ کا معاشی پیکج انیلاخان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لے گا – جس سے انیلاخان کورونا وائرس ختم ہونے کے بعد فوری دوبارہ ریسٹورنٹ شروع کر لے گی – جبکہ دیوالیہ ہونے کی صورت میں نیا کاروبار شروع کرنا مشکل ہو جائے گا اور ساتھ ہی ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے مزدور لمبا عرصہ بے روزگار رہیں گے اور دوسرے کام ان کو ملنا مشکل ہوں گے – جس سے ملک میں اقتصادی حالات لمبے عرصے تک مندے میں رہیں گے- ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے حکومتیں اپنے ملک کے پرائیویٹ سیکٹر کو بحرانی صورتحال میں ہر حال میں معاشی طور پر سپورٹ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں