190

کورونا وائرس ، حیتیات سے ٹکراؤ کی وجہ سے ؟؟

(ایڈیٹر ،عمران بشیر ، محمد طارق )

جنگلی جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے جو کورونا وائرس پھیلانے کا سبب بن کر انسانی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہیں – اس کی وجہ یہ ہے کہ جانوروں ، نباتات اور حیتیات کی قدرتی زندگی پر بہت منفی دباؤ ہے – دنیا میں صنعتی پیداواری افزائش ، قدرتی جنگلات کی کٹائی ، زمین کی صلاحیت کو بہتر کرنے کے لیے کیمیائی ادوایات گلوبل وائرس پیدا کرنے کا بنیادی موجب ہے –

نارویجین بیالیوجیسٹ محقق ایرلنگ ہولم کے مطابق کورونا وائرس چین کے گیلے بازاروں
(wet market )
سے شروع ہوا –
گیلے بازار وہ فوڈ بازار ہیں ، جہاں پر جانوروں ، مچھلی کا گوشت فروخت ہونے کے ساتھ زندہ جانور، پرندے اور زندہ مچھلی کی اقسام فروخت کی جاتی ہیں – ان گیلے بازاروں میں موجود زندہ جانوروں ، پرندوں پر مختلف قسم کے جراثیم موجود ہوتے ہیں – بازاروں سے ان اشیاء کی فروخت سے یہی جراثیم بھی انسانوں کے گھروں یا انسانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں – عام طور پر یہ جراثیم جانوروں ، پرندوں کے لیے خطرناک نہیں ہوتے – لیکن یہ جراثیم جیسے ہی انسانی جسم سے ٹکراتے ہیں تو اس وقت یہی جراثیم انتہائی پرخطر ہوجاتے ہیں –

چین کے حکومت نے اب ان گیلے فوڈ بازاروں پر پابندی لگا دی ہے اور ایسے بازاروں کو بند کر دیا ہے –

کورونا وائرس شروع ہونے سے پہلے چینی حکومت گیلے بازار ، مارکیٹس بنانے میں کاروباری افراد کی بہت حوصلہ افزائی کرتی تھی اور ان کو مختلف قسم کے فنانشل پیکج مہیا کرتی تھی تاکہ ملک میں لوگوں کو روزگار ملے اور ملک میں غذائی پیداوار میں اضافہ ہو – چین کے گیلے فوڈ بازاروں کا معاشی حجم 70 ارب ڈالر سالانہ ہے، جو چینی دیہی آبادی کا اہم ذریعہ آمدن ہے –

چین کے علاوہ کئی دوسرے ایشیائی اور افریقی ممالک میں زندہ جنگلی جانوروں کی تجارت سرعام ہورہی ہے – ان جنگلی جانوروں میں جس کا نام پانگولین ہے ، جس کی کھال مختلف ادویات میں استعمال ہوتی ہے ، جبکہ اس کا گوشت خاص خوراک کے طور پر استعمال ہوتا ہے – ان 2 وجوہات کی بنیاد پر اس جانور کی طلب انتہائی زیادہ ہے ، یہ جانور زیادہ تر افریقہ میں پایا جاتا ہے – حیاتیاتی محققین کے مطابق پانگولین کورونا جراثیم کا گھر ہے – کورونا جراثیم کا دوسرا بڑا گھر چمگادڑ ہے – یہ دونوں جانور چین کے گیلے فوڈ بازاروں میں فروخت کیے جاتے ہیں- جب انسان پانگولین اور چمگادڑ کا گوشت کھاتا ہے تو اسی گوشت کے ذریعے کورونا جراثیم انسانی جسم سے چمٹ جاتے ہیں –

کورونا وائرس اور دوسری وبائی امراض کا دوسرا بڑا سبب جب انسان نے اپنی سہولیات کے لیے زمین میں موجود نباتاتی ، حیتیاتی جانداروں کی قدرتی زندگی کو تہس نہس کیا ، تو ظاہر ہے جو جراثیم ان جانوروں ، پرندوں پر رہتے تھے – ان کی رہنے کی جگہ متاثر ہوئی تو ان جراثیم نے گنجان آبادیوں کا رخ کیا ، جہاں پر زندہ یا مردہ گوشت زیادہ مقدار میں مل جاتا ہے – خاص طور پر چمگادڑ نے جنگلوں میں درخت کم ہونے کی وجہ سے آبادیوں میں پہنچ گئے اور اپنے ساتھ خطرناک قسم کے جراثیم بھی لے آئے – پھر یہی جراثیم مختلف قسم کے وائرس اور بیماریاں لانے کا موجب بن رہے ہیں –

ثابت کیا ہوا کہ انسان نے جیسے ہی قدرتی فطرت سے ٹکر لی ، جیسے ہی انسان نے فطرت کے میزان کو غیر متوازن کیا ،اسی وقت اسے اپنے کیے سزا ملنا شروع ہوگئی –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں