541

غریبوں اور بے سہاروں کا سہار ا بننے کیلئے عامر لطیف کی ایک اور سنہری کاوش ”نور ریلیف “

اوسلو (ناصر اکبر سے )نور ریلیف کے تعارف سے قبل عامر لطیف نے گلو بل اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آج آپ کو پہلے یہ بتا نا پسند کرونگا کہ نور ریلیف جیسا ادارہ بنانے کی ہمیںضرورت کیوں محسو س ہو ئی ۔

کچھ عرض کرنے سے پہلے اپنا تعارف کراﺅں گا ۔۔۔ میرا نام عامر لطیف ہے اوسلو میں کافی عرصے سے رہتا ہوں ،سماجی اور فلاحی کاموں میں حصہ لیتا رہتا ہوں ،الحمد اللہ تعلق پاکستان سے ہے ۔

عامر لطیف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امیر اور غریب میں بہت زیادہ فرق ہے ،پچھلے کئی سالوں سے میں اور میری فیملی اپنے عزیزوں سے ملنے پاکستان جاتے رہے ہیں ،اپنے مختصر قیام کے دوران غربت اور بے روزگاری دیکھی ،یتیم ،مسکین ،معزور ،بیمار ،بوڑھے اور بے آسرا لوگ دیکھے جن کو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے بلکہ دھتکار دیا جا تا ہے ،حقارت اور نفرت سے دیکھا جا تا ہے ۔

ایسے واقعات دیکھ کر دل کو تکلیف ہوتی تھی ہم دونوں میاں بیوی اپنے ذاتی کام چھوڑ کر اپنی حیثیت کے مطابق ان غریبوں کی مالی اور اخلاقی مدد کرنا شروع کر د یتے تھے ،اور انشاءاللہ آئندہ بھی کرینگے ۔

پاکستان میں ا ٓدھی سے زےادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ،غریبوں کی مدد کرنا کارِثواب ہے اور یہ کسی اکیلے آدمی کا م نہیں ۔

عامر لطیف نے کہا کہ اس مقدس مقصد کے لیے ہم نے اس سال NOOR RELIEF کے نام سے ایک فلاحی ادارہ ناروے میں رجسٹرکرایا ہے ۔

عامر لطیف نے گلوبل اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے بھی لوگوں کو اس کار خیر میں حصے ڈالنے کی دعوت دیتا ہوں کہ آئیے اس کار خیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ غریب اور پسماندہ لوگوں کی مدد کی جا سکے ۔

عامر لطیف کا کہنا تھا کہ ہم ان بہن بھائیوں اور دوستوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری مالی مدد کی اور آئندہ بھی اس کار خیر میںحصہ لینے کا وعدہ کیا ہے ،امید ہے ہم سب مل کر ان بے سہاروں کا سہار ا بنیں گے جن کا سوائے اللہ کے کوئی سہارا نہیں ہے ۔

آخر میں انہوں نے گلوبل اردو نیوز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مل کر اس کوشش کو کامیاب بنائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں